ابلاغی دہشت گردوں کی طرف سے ایک پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت اور افواج نے تو دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان میں کوئی دہشت گردی نہیں ہے اور خیبر پختون خواہ میں بہت دہشت گردی پنپ رہی ہے لیکن بلوچستان میں حملوں نے پی ٹی آئی کے بیانئے کو سچا ثابت کردیا”
حالانکہ وفاقی حکومت اور افواج نے بلوچستان میں دہشت گردی یا دہشت گردی کے خطرات موجود نا ہونے کا کبھی نہیں کہا بلکہ وہاں موجود حکومت، حکومتی مشینری، وزیر اعلیٰ اور انکی کابینہ کا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں تعاون اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے کا دعویٰ کیا تھاجو سچا اور حقائق پر مبنی دعویٰ تھا،
جسے وزیر اعلیٰ بلوچستان، بلوچستان پولیس اور اسکے سی ٹی ڈی کے محکمے نے کل اور آج ثابت کیا کہ وہ لوگ بی ایل اے کی مسلح دہشتگردی کے خلاف بنیان المرصوص کی طرح ریاست پاکستان کے ساتھ میدان میں موجود ہیں.
کل وزیر اعلیٰ بلوچستان کی میڈیا سے بات چیت اور آج کی پریس کانفرنس سے بھی یہ واضح ہے کہ بلوچستان حکومت دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خلاف پُرعزم ہیں، زمینی حقائق کو جانتے ہیں اور اسکا سدِباب کرنے کے لئے بھی پوری طرح تیار ہیں.
جبکہ دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ، انکی ٹیم، کابینہ اور پی ٹی آئی کی قیادت ٹی ٹی پی کو دہشت گرد نہیں سمجھتی انکے حملوں کو دہشت گردی نہیں کہتی دہشت گردی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کےسامنے رکاوٹ کھڑی کرتی ہے، ابہام پیدا کرتی ہےاورانکا سوشل میڈیا دہشتگردوں کے بیانیوں کی ترویجِ کرتا ہے اسلئے ٹی ٹی پی کو خیبرپختونخوا میں سازگار ماحول ملا ہوا ہے