بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان سے وابستہ حملہ آور دہشتگردوں کے خلاف سینیٹائزیشن اور تعاقبی آپریشنز کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات مختلف علاقوں میں کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 روز کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونے والے مسلسل اور مربوط آپریشنز میں اب تک کم از کم مجموعی طور پر 177 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔
یہ کارروائیاں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد ان عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں جو ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس مشترکہ طور پر بلوچستان کے حساس اور دشوار گزار علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مفلوج کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے‘۔
ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مزید جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، تاہم آپریشنل حساسیت کے باعث تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا رہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشنز انٹیلی جنس بیسڈ ہیں اور ان کا مقصد نہ صرف دہشتگرد عناصر کا خاتمہ ہے بلکہ ان کے معاون نیٹ ورک، مالی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کو بھی مکمل طور پر توڑنا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ’ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک بلوچستان کو مکمل طور پر پُرامن نہیں بنا دیا جاتا‘۔
دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور قیامِ امن کی کوششوں میں تعاون کریں۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔