اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 175 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہو چکا ہے، جس کے بعد صارفین کو مہنگا مٹی کا تیل خریدنا پڑ رہا ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں اس اضافے سے بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ملک کے کئی حصوں میں آج بھی مٹی کا تیل گھریلو روشنی، کھانا پکانے اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جہاں گیس اور بجلی کی سہولیات محدود یا ناپید ہیں، ایسے میں قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مالی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پہلے ہی ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کر چکی ہے ، اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ زراعت، صنعت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ڈیزل کے وسیع استعمال کے باعث نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف پر منتقل ہو جاتا ہے، آنے والے دنوں میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق حکومتی فیصلے عوامی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔