عید سے قبل سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر

عید سے قبل سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر

عیدالفطر جیسے خوشیوں بھرے موقع سے پہلے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے سرکاری ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

حکومت نے مالی اخراجات پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے تنخواہوں کے علاوہ تمام اضافی ادائیگیاں، جن میں مختلف الاؤنسز بھی شامل ہیں، عارضی طور پر روک دی ہیں،۔ذرائع کے مطابق یہ اقدام حکومت کی خصوصی ہدایات پر اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کی جانب سے کیا گیا، جس کے تحت صرف بنیادی تنخواہیں جاری رہیں گی جبکہ دیگر مالی مراعات کو فی الحال معطل کر دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ سخت اقدامات عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جہاں حکومت کو اپنے مالی اہداف اور طے شدہ شرائط کو پورا کرنا درپیش ہے، اسی مقصد کے لیے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مراعات پر مکمل پابندی، حکومت نے سرکاری ملازمین کے تمام الاؤنسز منجمد کر دیے

یہ پیش رفت اس وسیع تر کفایت شعاری مہم کا حصہ ہے جس کا آغاز وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے کیا گیا تھا،اس مہم کے تحت پہلے ہی وفاقی و خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے تیس فیصد تک کمی کا اعلان کیا جا چکا ہے، جس کا مقصد سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانا ہے۔

حکومتی سطح پر دیگر اقدامات بھی متعارف کروائے گئے ہیں، جن میں آئندہ دو ماہ کے دوران سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں پچاس فیصد کمی، متعدد سرکاری گاڑیوں کو عارضی طور پر غیر فعال کرنا، اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی شامل ہے۔

اس کے علاوہ غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور سرکاری امور کے لیے آن لائن ملاقاتوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے،حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تمام فیصلے عارضی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نکالنا اور مالی استحکام کی راہ ہموار کرنا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *