کیمبرج سسٹم سے منسلک اسکول اب طلبہ کو پرائیویٹ امیدوار بنانے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔
سندھ حکومت نے کیمبرج سسٹم سے منسلک نجی اسکولوں کی جانب سے طلبہ کو زبردستی پرائیویٹ امیدوار بنانے کے عمل کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، اس اقدام کا مقصد طلبہ کے تعلیمی حقوق کا تحفظ اور غیر منصفانہ پالیسیوں کا خاتمہ ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق اب کوئی بھی نجی اسکول طلبہ کا داخلہ منسوخ کر کے انہیں پرائیویٹ امیدوار بننے پر مجبور نہیں کر سکے گا، اس حوالے سے جاری کیے گئے احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ سے فیس وصول کرنے کے باوجود انہیں امتحانات میں بیٹھنے سے روکنا صریحاً غیر قانونی عمل ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن سندھ کی جانب سے باقاعدہ سرکلر جاری کر کے تمام نجی اسکولوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ داخلہ پالیسی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سرکلر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیمی کارکردگی کی مکمل ذمہ داری اسکول انتظامیہ اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ طلبہ پر۔
محکمہ تعلیم نے کیمبرج امتحانات دینے والے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول اپنی ناکامی یا کم نتائج کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات سے روکنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ایسی پریکٹس کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی اسکول نے ان احکامات کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف متعلقہ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں رجسٹریشن کی معطلی یا دیگر سخت اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
سندھ حکومت کے اس فیصلے کو والدین اور طلبہ کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ اقدام تعلیمی نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔