پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تیاریاں شروع کرلی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نیپرا کل عوامی سماعت کے ذریعے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2025 کے مسودے پر رائے حاصل کرے گا، نئے قوانین کے تحت شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کی پیدا کردہ اضافی بجلی اب تقریباً 11.5 روپے فی یونٹ کی قیمت پر فروخت کی جائے گی، جو موجودہ 26 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
نئی ریگولیشنز کے تحت شمسی صارفین کے معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کی جائے گی، جبکہ پے بیک دورانیہ دو سال سے بڑھا کر 5 سال کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ نیٹ بلنگ اور گراس میٹرنگ نظام بھی متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے شمسی توانائی استعمال کرنے والوں کے مالی فوائد میں کمی کا امکان ہے۔
نئی ریگولیشنز کےتحت شمسی صارفین کو حاصل اہم سہولت ختم ہوجائےگی،گرڈ کوفراہم بجلی کوایک کے بدلےایک بنیاد پراستعمال شدہ بجلی کےساتھ ایڈجسٹ نہیں ہوسکےگی، نئی ریگولیشنز کےتحت صارفین گرڈ سے حاصل بجلی کے لیے مکمل قومی ٹیرف ادا کریں گے ، اضافی شمسی بجلی نسبتاً کم مقررہ نرخ پرتقسیم کار کمپنیوں ڈسکوزکو فروخت کی جائے گی۔
ڈسکوز اور حکومت کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات اور آمدن متاثر ہو رہی ہے۔
نیپرا نے پرانے شمسی صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی بجائے گراس میٹرنگ نظام کی سفارش کی ہے، جہاں بجلی کی خریداری علیحدہ ریٹیل نرخوں پر کی جائے گی۔ نئے صارفین اپنی پیدا کردہ تمام بجلی تقریباً ساڑھے 11 روپے فی یونٹ پر فروخت کریں گے۔
سی پی پی اے کے مطابق، نیٹ میٹرنگ صارفین کی وجہ سے گرڈ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جبکہ نیپرا کے مطابق شمسی نیٹ میٹرنگ کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
نئے ریگولیشنز کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے الگ الگ ٹیرف ہونگے ، نیپرانیٹ میٹرنگ صارف کی پیداواری صلاحیت پرنظرثانی کر سکےگا،نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیےبجلی کی فروخت اورخریداری کے لیے الگ الگ میٹرز ہوں گے، نیا نیٹ میٹرنگ صارف اپنی بجلی کسی دوسرے صارف کوفروخت نہیں کرسکےگا۔