انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے تمام اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے متعلق بڑا اور فیصلہ کن فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش پر نہ کوئی پابندی عائد کی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کو مستقبل میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی بھی دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی سی سی کے فورم پر بنگلہ دیش کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کرکٹ کے کھیل کو سیاسی یا انتظامی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ آئی سی سی نے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے تمام خدشات کا خاتمہ کر دیا۔
ادھر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک باضابطہ بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، آئی سی سی اور تمام شامل فریقین کا حالیہ چیلنجز سے نمٹنے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے پر دلی شکریہ ادا کیا ہے۔
بی سی بی نے خاص طور پر پی سی بی کے چیئرمین محسن رضا نقوی، ان کے بورڈ اور پاکستانی کرکٹ شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل دور میں پاکستان نے مثالی کھیل کی روح، یکجہتی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر محمد امین الاسلام نے پاکستان کے نام لکھے گئے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ ‘ہم پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کی حمایت میں کی گئی غیر معمولی کوششوں سے بے حد متاثر ہیں، ہماری بھائی چارہ اور دوستی طویل عرصے تک پروان چڑھتی رہے گی’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے مختصر دورے اور ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ
’15 فروری کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلا جائے تاکہ پورے عالمی کرکٹ ماحولیاتی نظام کو فائدہ پہنچے’۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے بلکہ عالمی کرکٹ کے استحکام، باہمی اعتماد اور کھیل کی بقا کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔