پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے اسپنر عثمان طارق کے لیے مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب گزشتہ رات کھیلے گئے میچ کے دوران میچ ریفری نے ان کے بولنگ ایکشن کو مشکوک قرار دے دیا۔ واقعے کے بعد معاملہ باقاعدہ طور پر آئی سی سی کے ضابطہ کار کے تحت رپورٹ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق میچ کے دوران چند گیندوں پر عثمان طارق کے بازو کے خم سے متعلق شبہ ظاہر کیا گیا، جس کے بعد آن فیلڈ امپائرز اور میچ ریفری نے اپنی آبزرویشن رپورٹ مرتب کی۔
آئی سی سی قوانین کے مطابق جب کسی بولر کے ایکشن پر شبہ کیا جائے تو اسے باضابطہ ٹیسٹنگ کے عمل سے گزرنا ہوتا ہے تاکہ تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ کیا جا سکے۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری پریس نوٹ کے مطابق عثمان طارق کو 12 فروری 2026 کو آئی سی سی سینٹر آف ایکسی لینس دبئی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وہاں ان کے بولنگ ایکشن کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تجزیہ کیا جائے گا، جس میں ہائی اسپیڈ کیمروں، بایومکینیکل سینسرز اور تھری ڈی موشن اینالیسس سسٹم کا استعمال شامل ہوگا۔
آئی سی سی کی میڈیکل ٹیم ان کی دونوں کہنیوں پر پہنے گئے بینڈز کا بھی معائنہ کرے گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں یہ کسی تکنیکی یا طبی مسئلے سے متعلق تو نہیں۔
آئی سی سی کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کارروائی کسی بھی بولر کے خلاف معمول کا طریقہ کار ہے اور اسے تادیبی اقدام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ضابطوں کے تحت بولر کو ٹیسٹ مکمل ہونے تک بین الاقوامی میچز میں باؤلنگ جاری رکھنے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ٹیسٹنگ رپورٹ کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کرکٹ میں بولنگ ایکشن کی نگرانی انتہائی سخت ہو چکی ہے اور معمولی تکنیکی خامی بھی رپورٹ ہو سکتی ہے۔ بعض سابق کرکٹرز نے امید ظاہر کی ہے کہ عثمان طارق کا ایکشن کلیئر قرار پائے گا کیونکہ ماضی میں بھی کئی بولرز کو ٹیسٹنگ کے بعد اجازت مل چکی ہے۔
اگر ٹیسٹ کے بعد عثمان طارق کا ایکشن کلیئر قرار دے دیا جاتا ہے تو وہ بھارت کے خلاف آئندہ اہم میچ کھیل سکیں گے، جو ٹورنامنٹ کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اگر ایکشن غیر قانونی قرار پایا تو انہیں باؤلنگ ایکشن درست کرنے کے لیے مخصوص مدت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق بورڈ قانونی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا اور کھلاڑی کو مکمل سپورٹ دی جائے گی تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ ٹیسٹ کا سامنا کر سکے۔ حتمی رپورٹ ٹیسٹنگ کے عمل کی تکمیل کے بعد جاری کی جائے گی، جس کے بعد ہی عثمان طارق کے مستقبل سے متعلق واضح صورتحال سامنے آئے گی۔