پابندی کا ایک سال رہ گیا،معروف پاکستانی کرکٹر کی چیئر مین پی سی بی سےبڑی اپیل

پابندی کا ایک سال رہ گیا،معروف پاکستانی کرکٹر کی چیئر مین پی سی بی سےبڑی اپیل

سابق پاکستانی کرکٹر نے کہا ہے کہ قید کے دوران انہوں نے نہایت مشکل وقت گزارا اور ایک مرحلے پر وہ خودکشی کے بارے میں بھی سوچنے لگے تھے تاہم اہلیہ اور بیٹی کی وجہ سے انہوں نے زندگی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر جمشید کا کہنا تھا کہ اپنی غلطی پر انہیں شدید ندامت ہے اور اس کی بہت بڑی قیمت وہ ادا کر چکے ہیں[ان نے کہا کہ اگر قانونی نمائندہ درست مشورہ دیتا تو سزا کم ہوسکتی تھی اور کرکٹ پر عائد پابندی بھی اس وقت تک ختم ہو چکی ہوتی انہوں نے کہا کہ برمنگھم میں شیشہ کیفے کے اندر ان کی ریکارڈ کی گئی گفتگو جب عدالت میں پیش کی گئی تو انہوں نے جرم قبول کر لیا۔

ناصر جمشید نے بتایا کہ وکیل نے انہیں اعتراف جرم نہ کرنے اور کرکٹ بورڈ سے رابطہ منقطع رکھنے کا مشورہ دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ شاہد علی کی غلط رہنمائی کے باعث وہ درست فیصلہ نہ کر سکے اور اس شخص کی دلچسپی صرف مالی فائدے تک محدود تھی۔

یہ بھی پڑھیں :سری لنکن کرکٹرکا بھارتی کھلاڑیوں سے متعلق بڑا انکشاف،ٹی 20ورلڈکپ میں نیا تنازع

کرکٹر کے مطابق وہ یوسف انور کے ساتھ سازش میں شامل تھے اور انہوں نے ہی یوسف انور کا شرجیل خان اور خالد لطیف سے رابطہ کروایا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں قیام کے دوران حالات انتہائی سخت تھے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہے ایک موقع پر وہ اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچنے لگے تھے

مشکل وقت میں ان کی اہلیہ نے ان کا ساتھ دیا، ناصر جمشید کے مطابق اہلیہ بیٹی کی تصاویر بھیجتی تھیں جس سے انہیں حوصلہ ملتا تھا اور انہوں نے بیوی اور بیٹی کے لیے جینے کا فیصلہ کیا،ناصر جمشید نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کی کہ ان کی پابندی کا صرف ایک سال باقی ہے اسے معاف کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور جو کچھ ہوا وہ مکمل طور پر غلط تھاان کا کہنا تھا کہ وہ نئے کھلاڑیوں کو یہی نصیحت کریں گے کہ کبھی بھی بدعنوانی میں ملوث نہ ہوں۔

واضح رہے کہ مانچسٹر کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ کرکٹ کھیلنے پر 10 سال کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی،نیشنل کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق انہوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ 2016 اور پاکستان سپر لیگ 2017 کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی کوشش کی بی پی ایل میں ایک بیٹر کو رقم کے عوض اوور کی پہلی دو گیندوں پر رنز نہ بنانے پر آمادہ کیا گیا تھا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *