جارج بش سے ڈونلڈ ٹرمپ تک، 35 سال تک راج کرنے والا تاریخی صدارتی طیارہ ریٹائر، فضائی بیڑے سے رخصت

جارج بش سے ڈونلڈ ٹرمپ تک، 35 سال تک راج کرنے والا تاریخی صدارتی طیارہ ریٹائر، فضائی بیڑے سے رخصت

امریکی صدر کے زیرِ استعمال رہنے والا دنیا کا سب سے مشہور اور تاریخی صدارتی طیارہ ’ایئر فورس ون‘ 35 سال سے زیادہ عرصے تک شاندار خدمات انجام دینے کے بعد باقاعدہ طور پر ریٹائر کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد اسی تاریخی طیارے کے ذریعے واشنگٹن تک اپنی آخری پرواز مکمل کی، جس کے ساتھ ہی اس طیارے کی طویل عملی خدمات کا ہمیشہ کے لیے اختتام ہو گیا۔

قطر کا متبادل تحفہ اور نئے فضائی بیڑے کی تیاری

اس تاریخی طیارے کی ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی حکومت ایک سال قبل قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے انتہائی لگژری بوئنگ 747 طیارے کو عارضی طور پر نئے ’ایئر فورس ون‘ کے متبادل کے طور پر صدارتی فضائی بیڑے میں شامل کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے پاس اب بھی ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع ہے ، امریکی وزیرجنگ

قطر کی طرف سے تحفے میں دیے گئے اس جدید ترین طیارے کی کل مالیت 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، جو تمام تر جدید سفری و حفاظتی سہولیات سے لیس ہے اور اب امریکی صدر کے اگلے فضائی مشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

3 دہائیوں کا شاندار سفارتی سفر

امریکی صدر کے لیے مختص یہ بوئنگ 747 طیارہ پہلی بار 1990 میں امریکی فضائی بیڑے میں شامل ہوا تھا، جس نے 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک متعدد امریکی صدور کو دنیا بھر کے اہم ترین سفارتی دوروں، عالمی سربراہی اجلاسوں اور تاریخی مواقع پر محفوظ سفری سہولیات فراہم کیں۔

یہ خوبصورت سفید اور نیلے رنگ کا طیارہ دنیا بھر میں امریکی صدارت اور طاقت کی ایک متحرک علامت سمجھا جاتا تھا اور جہاں بھی دنیا کے کسی کونے میں امریکی صدر سفر کرتے، یہ جہاز عالمی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بن جاتا تھا۔

’آخری سواری‘، وائٹ ہاؤس کا طیارے کو شاندار خراجِ تحسین

اس تاریخی الوداعی موقع پر امریکی کمیونیکیشن ڈائریکٹراسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پر اس صدارتی طیارے کی ایک یادگار تصویر شیئر کی، جس کے کیپشن میں انہوں نے ’شاباش، اچھا اور وفادار بندہ‘ اور ’آخری سواری‘ کے جذباتی الفاظ تحریر کیے۔

مزید پڑھیں:ایران کیساتھ معاہدہ ، سوشل میڈیا پر غلط معلوما ت پھیلائی جا رہی ہیں ، امریکی صدر کا اظہار برہمی

ان الفاظ کو امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس طیارے کی دہائیوں پر محیط وفادارانہ خدمات کے لیے ایک شاندار خراجِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔

جارج بش سے ڈونلڈ ٹرمپ تک کا سفر

ریٹائر ہونے والا یہ بوئنگ 747 طیارہ صرف ایک جہاز نہیں بلکہ امریکا کی جدید سفارتی تاریخ کا ایک گواہ ہے۔

یہ طیارہ سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دورِ صدارت (1990) میں فضائی بیڑے کا حصہ بنا تھا اور اس کے بعد سے لے کر بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما، جو بائیڈن اور اب موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک مسلسل امریکی صدور کی سفری ضروریات پوری کرتا رہا۔

اس دوران یہ طیارہ نائن الیون کے حملوں، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کے دور، مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں اور سینکڑوں بین الاقوامی دوروں اور اہم خفیہ سفارتی مشنز کا مرکز رہا ہے۔

عام طور پر امریکی صدارتی طیاروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد میوزیم کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ عوام اس تاریخی اثاثے کو دیکھ سکیں۔

امریکا قطر تعلقات کی نئی جہت

قطر کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے لگژری بوئنگ 747 کا تحفہ اور اب امریکا کی طرف سے اسے اپنے صدارتی بیڑے کا حصہ بنانا، دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اور سفارتی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کیجانب سے اسرائیل سمیت خلیجی ممالک کے مختلف امریکی اڈوں پر ڈرون و میزائل حملے جاری

ایک ایسے وقت میں جب خلیجی خطے کی سیاست بدل رہی ہے، قطر کا یہ تحفہ امریکی صدارت کے مرکز میں جگہ پا چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کی تبدیلی اور ضرورت

35 سالہ پرانا بوئنگ 747 اگرچہ تکنیکی طور پر انتہائی مضبوط تھا، لیکن جدید دور کے سائبر خطرات، ایندھن کی بچت اور جدید ترین ڈیفنس سسٹمز (دفاعی نظام) کے لحاظ سے اس کی اَپ گریڈیشن اِخراجات کے لحاظ سے مہنگی ثابت ہو رہی تھی۔ نئے طیارے کی شمولیت سے صدارتی فضائی سیکیورٹی مزید ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی۔

ایک سیاسی علامت کا خاتمہ

نیلے اور سفید رنگ کا یہ روایتی ڈیزائن اور طیارے کی ساخت دنیا کے کسی بھی ایئرپورٹ پر امریکی مہر کی طرح دیکھی جاتی تھی۔ نیا طیارہ اگرچہ لگژری ہے، لیکن اس پرانے طیارے کے ساتھ جو تاریخی رعب اور دبدبہ وابستہ تھا، اسے پانے میں نئے طیارے کو وقت لگے گا۔

Related Articles