امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اہم دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں، جہاں ان کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس سے قبل محسن نقوی نے مشہد میں امام علی رضا کے روضے پر حاضری دی، جہاں ان کا استقبال خراسان کے گورنر نے کیا تھا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی “ارنا” کے مطابق محسن نقوی ایران کے اعلیٰ سطح کے سرکاری عہدیداروں اور رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں درپیش مسائل کو باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں جنگ بندی کا نکتہ بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کے بعد ایران نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
ہفتے کے روز سامنے آنے والی تازہ پیش رفت کے مطابق ایران اور امریکا کے نمائندے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے جمعرات کو 14 نکات پر مشتمل ایک عارضی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد تمام محاذوں پر جنگ کو روکنا اور ایران کے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے 60 روز کے اندر ایک پائیدار اور حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اور ایران نواز مسلح گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی نائب صدر نے سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا پروگرام منسوخ کر دیا تھا، تاہم جنگ بندی کے بعد امریکی وفد کے دیگر اعلیٰ ارکان سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی روانگی بھی ہفتے کے روز متوقع ہے۔
لبنان میں ہونے والی جنگ بندی امریکی اور قطری مذاکرات کاروں کی کوششوں اور ایران کی مدد سے ممکن ہوئی، جس کی تصدیق دونوں جانب کے عسکری اور سرکاری ذرائع نے بھی کی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر دوسری جانب سے حملہ نہیں کیا جاتا تو وہ بھی حملہ نہیں کریں گے، تاہم ان کی افواج جنوبی لبنان کے زیر قبضہ علاقے میں موجود رہیں گی۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی گھنٹے میں لبنان پر چند فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے خوش نہیں ہیں اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں۔