دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف 15 سے 16 فروری 2026 کو جمہوریہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچین اسٹاکر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 70 برس مکمل ہونے کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق وزیرِاعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا جس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ شامل ہوں گے۔ وفد کی موجودگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اس دورے کو سیاسی، سفارتی اور معاشی سطح پر ایک جامع پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دورے کے دوران وزیرِاعظم اپنے آسٹرین ہم منصب کے ساتھ ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یورپی منڈیوں تک رسائی، صنعتی اشتراک اور ہنرمند افرادی قوت کے تبادلے کے امور بھی زیر غور آئیں گے۔
وزیرِاعظم پاکستان آسٹریا تجارتی فورم کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے جس کا انعقاد آسٹرین اکنامک چیمبر کے زیر اہتمام ہوگا۔ اس فورم میں دونوں ممالک کے سرکردہ سرمایہ کار، صنعتکار اور کاروباری شخصیات شریک ہوں گی۔ توقع ہے کہ اس موقع پر کاروباری روابط کو فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔
وزیرِاعظم ویانا میں قائم اہم کثیرالجہتی اداروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں عالمی تعاون، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی قانون کے احترام جیسے موضوعات پر گفتگو متوقع ہے۔ پاکستان اور آسٹریا کے تعلقات مکالمے، اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں، کثیرالجہتی نظام اور عالمی قوانین کے احترام جیسی مشترکہ اقدار پر استوار ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کسی پاکستانی وزیرِاعظم کا گزشتہ 3 دہائیوں میں یہ پہلا دورہ آسٹریا ہے۔ اس سے قبل 1992 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے آسٹریا کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرے گا اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دورے سے نہ صرف یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط کو تقویت ملے گی بلکہ معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔