وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منامہ بحرین میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور بحرین کے دیرینہ شراکت دارانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جہاں دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف جو دو روزہ سرکاری دورے پر بحرین میں موجود ہیں، نے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان ’تاریخی اور برادرانہ‘ تعلقات پر زور دیا گیا جو باہمی احترام اور مشترکہ ایمان پر مبنی ہیں۔
’اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق‘
وزیراعظم شہباز نے پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دوطرفہ تجارت 550 ملین ڈالر سے زیادہ ہے جس میں اضافہ کرکے اسے آئندہ 3 برسوں میں 1 بلین ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان۔جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ حتمی مراحل میں ہے جو تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔
Had a most productive meeting with His Majesty King Hamad bin Isa Al Khalifa, King of the Kingdom of Bahrain, in Manama today.
I was honoured to receive the revered award Order of Bahrain (First Class).
انہوں نے بحرینی کمپنیوں کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے سرمایہ کاری کی دعوت دی اور خوراک کے تحفظ، آئی ٹی، تعمیرات، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں وسیع مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے کراچی، گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان ’پورٹ ٹو پورٹ‘ کنیکٹیویٹی بڑھانے کی بھی تجویز دی۔
’پاکستانی کمیونٹی کی حمایت پر اظہارِ تشکر‘
وزیراعظم نے بحرین میں مقیم 1,50,000 سے زیادہ پاکستانیوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات پر شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیدیوں کو معاف کرنے پر شاہ حمد کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کی پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا اور اعلیٰ تعلیم، ٹیکنیکل ٹریننگ اور ڈیجیٹل گورننس میں تعاون بڑھانے کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں ستمبر 2025 میں افتتاح ہونے والی ’کنگ حمد یونیورسٹی فار نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز‘ کے قیام پر بھی بحرین کا شکریہ ادا کیا۔
دفاعی، سلامتی اور علاقائی امور پر گفتگو
دونوں ممالک نے اپنے دیرینہ دفاعی تعاون کا جائزہ لیا اور تربیت، لاجسٹکس، افرادی قوت، سائبر سیکیورٹی اور دفاعی پیداوار میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ معلومات کے تبادلے اور وسیع تر سیکیورٹی تعاون بھی زیرِ بحث آیا۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اتفاق کیا کہ فلسطینی عوام کے لیے امن اور استحکام ’طویل عرصے سے باقی‘ ہے۔
’بحرین کا اعلیٰ ترین اعزاز وزیراعظم شہباز کے نام‘
نیک خواہشات کے اظہار کے طور پر شاہ حمد نے وزیراعظم شہباز شریف کو ’آرڈر آف بحرین (فرسٹ کلاس)‘ کا اعزاز عطا کیا، جو بحرین کی طرف سے سربراہانِ مملکت و حکومت کو دیا جانے والا سب سے اعلیٰ اعزاز ہے۔
شاہ حمد نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے ماضی میں بحرین کی قانونی نمائندگی کی تھی، جسے بحرین اپنی تاریخ کا اعزاز سمجھتا ہے۔
پُرتفاخر استقبال اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں
القدیبہ پیلس پہنچنے پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہوں نے بحرین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2026–27 کی غیر مستقل نشست کے حصول پر مبارکباد دی اور اس دوران پاکستان کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
دورے کے اختتام پر شاہ حمد نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
دونوں ممالک نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دورہ پاکستان اور بحرین کے دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دے گا اور عوامی روابط سمیت ہر شعبے میں تعاون مزید مستحکم ہوگا۔