73 سالہ عمران خان کا 15 فروری 2026 کو طبی بورڈ کے ذریعے تفصیلی طبی معائنہ مکمل کرکے باقاعدہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں آنکھوں کی بینائی اور دیگر پیچیدگیوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ طبی بورڈ نے دورہ اڈیالہ جیل کے بعد اپنی طبی رپورٹ جاری کی جس پر دونوں ماہر ڈاکٹروں کے دستخط موجود ہیں۔
طبی بورڈ میں الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی میکیولا کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی ہے، جسے نمایاں بہتری قرار دیا گیا ہے۔
بینائی میں واضح بہتری
رپورٹ کے مطابق متاثرہ دائیں آنکھ کی بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 ہو گئی ہے، جسے موجودہ مرحلے پر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ بغیر عینک دائیں آنکھ کی بینائی 6/24 جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے ساتھ دائیں آنکھ 6/9 اور بائیں آنکھ 6/6 ہو گئی ہے، جو معمول کی بینائی کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔
طبی بورڈ نے آنکھوں کی موجودہ طبی کیفیت، سوجن کی سطح اور علاج کے ردعمل کی مکمل تفصیل رپورٹ میں شامل کی ہے۔
آئندہ علاج اور ادویات کی ہدایات
رپورٹ میں آئندہ کے علاج کے لیے باقاعدہ منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ نیواناک آنکھوں کے قطرے دونوں آنکھوں کے لیے روزانہ دو بار استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کو سوپٹ آنکھوں کے قطرے صرف دائیں آنکھ کے لیے روزانہ دو بار جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔ سسٹین الٹرا آنکھوں کے قطرے دونوں آنکھوں کے لیے دن میں 3 بار استعمال کرنے کی ہدایت شامل ہے۔
اس کے علاوہ اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن کی دوسری خوراک مقررہ ترتیب کے مطابق دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مزید تشخیص کے لیے او سی ٹی اینجیوگرافی اور اینٹی وی ای جی ایف علاج مکمل ہونے کے بعد ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کی سفارش کی گئی ہے۔
سیاسی رہنماؤں اور ذاتی معالجین کو آگاہی
طبی بورڈ کے دورہ اڈیالہ جیل کے بعد گوہر علی خان اور راجہ ناصر عباس پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچے جہاں ماہرین نے انہیں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹرعاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی ٹیلی فون پر مکمل طبی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں اور ذاتی ڈاکٹروں نے جاری علاج اور آئندہ معائنے کے منصوبے پر مکمل اطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
طبی بورڈ کی جاری کردہ رپورٹ کو دونوں ماہر ڈاکٹروں نے باقاعدہ دستخط کے ساتھ جاری کیا، جس میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران مسلسل نگرانی اور دوبارہ معائنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق موجودہ پیش رفت مثبت ہے تاہم مکمل صحت یابی کے لیے تجویز کردہ علاج اور ٹیسٹ بروقت مکمل کرنا ضروری ہوگا۔