وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ سامنے آ چکی ہے اور وہ صحت مند ہیں، تاہم ان کی جماعت کے لوگوں کو یہ بات شاید اچھی نہ لگے کہ ان کی صحت بہتر ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے اپوزیشن لیڈر تبدیل کیا اور پھر وزیر اعلیٰ بھی تبدیل کرکے دیکھ لیا، لیکن ان اقدامات کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب ان کے پاس وکٹم کارڈ کے سوا کچھ نہیں بچا۔
انہوں نےکہا کہ کسی مریض کو کہاں رکھا جائے، کون سی دوا دی جائے اور کس نوعیت کا علاج کیا جائے، اس کا فیصلہ صرف ڈاکٹرز کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار نہ مریض کے پاس ہوتا ہے، نہ اس کے وکیل کے پاس اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے پاس، بلکہ یہ مکمل طور پر طبی ماہرین کی صوابدید ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی رپورٹ مثبت ہے اور ان کی بینائی بھی پہلے سے بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ عام طور پر 40 سال بعد کسی شخص کی نظر اتنی اچھی نہیں ہوتی جتنی بانی پی ٹی آئی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سینئر ڈاکٹرز بھی شامل ہیں، جو تمام معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بانی پی ٹی آئی کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔
طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں جاری صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے کی بندش کے بارے میں صوبائی حکومت سے سوال کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو مشکلات میں کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جب احتجاج کیا تو وہ سڑکوں پر نکلے تھے، نہ کہ کسی عمارت کے اندر بیٹھ کر تحریک چلائی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ احتجاج کرنے والے افراد آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر وہ اسی طرح انقلاب لانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو حکومت ان کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے کو بھی تیار ہے۔