بھارتی فوج کے لیے شرمندگی: سرکاری میٹنگ پر گئے حاضر سروس میجر نے یورپ میں اسائلم کے لیے درخواست دے دی

بھارتی فوج کے لیے شرمندگی: سرکاری میٹنگ پر گئے حاضر سروس میجر نے یورپ میں اسائلم کے لیے درخواست دے دی

بھارتی فوج کے اندرونی بحران، مودی سرکار کی متنازع پالیسیوں اور عسکری قیادت کی ناکامیوں کی ایک اور شرمناک مثال اس وقت سامنے آئی جب سرکاری میٹنگ کے لئے جانے والے بھارتی فوج کے اسپیشل فورسز کے افسر میجر شیرف بھونسلے نے یورپ میں سیاسی پناہ (اسائلم) کے لیے درخواست دے دی۔

باخبر ذرائع کے مطابق میجر شیرف بھونسلے مودی حکومت کی جنگی ذہنیت، اقلیت دشمن پالیسیوں اور فوج میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت سے شدید نالاں تھے، جس کے باعث انہوں نے بھارت چھوڑنے کا انتہائی قدم اٹھایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر شیرف بھونسلے اگست 2014 میں سالانہ چھٹی پر گئے تھے، تاہم اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ یہ وہی دور تھا جب بھارت میں انتہا پسندانہ پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا تھا اور فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

بھارتی فوج کی اندرونی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ میجر شیرف بھونسلے نے لازمی ملٹری انٹیلیجنس کلیئرنس کے بغیر پیرا جمپنگ کے لیے اسپین کا سفر کیا، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ پہلے ہی بھارتی عسکری نظام سے بدظن ہو چکے تھے۔

بعد ازاں سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بنیاد پر انہیں مبینہ طور پر ناروے میں ٹریس کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم گزشتہ دس سال سے زائد عرصے کے دوران بھارتی فوج اور انٹیلیجنس ادارے ان کے درست مقام کا تعین کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ناکامی بھارتی خفیہ اداروں کی کمزوری اور اندرونی انتشار کو بے نقاب کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں شکست ،بھارتی جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا

دوسری جانب، بھارتی فوج نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے 2016 میں میجر شیرف بھونسلے کے خلاف اپریہنشن رول جاری کیا، مگر تمام تر دعوؤں کے باوجود کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکا۔ بالآخر 27 اکتوبر 2025 کو آرمی ہیڈکوارٹر نے آرمی ایکٹ 1950 کے تحت “سنگین بدانتظامی” کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا، جو دراصل ایک فرار شدہ افسر پر دباؤ ڈالنے کی ایک رسمی کارروائی کے سوا کچھ نہیں۔

یہ نوٹس پونے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بھجوایا گیا اور 30 دن میں جواب طلب کیا گیا، جبکہ نوٹس میں یہ دھمکی بھی دی گئی کہ جواب نہ دینے کی صورت میں ان کی کمیشن منسوخ کر دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے اب لاپتا اسپیشل فورسز افسر کے خلاف برطرفی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ اپنی ناکامی کو “قانونی کارروائی” کا رنگ دیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میجر شیرف بھونسلے کا یورپ میں اسائلم کے لیے درخواست دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی فوج کے اندر شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور مودی سرکار کی پالیسیاں نہ صرف خطے کے امن بلکہ خود بھارتی اداروں کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ یہ واقعہ بھارتی فوج کے بلند بانگ دعوؤں اور نام نہاد پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *