پاکستان میں انقلابی پیش رفت، پہلی روبوٹک سرجری مکمل، مریضوں کو اب بیرون ملک جانے کی ضرورت ختم

پاکستان میں انقلابی پیش رفت، پہلی روبوٹک سرجری مکمل، مریضوں کو اب بیرون ملک جانے کی ضرورت ختم

لاہور کے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر میں سرجنز نے ملک کی پہلی روبوٹک وہپل سرجری کامیابی سے انجام دے دی ہے، جسے پاکستان میں کینسر اور جگر کے علاج کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ پیچیدہ آپریشن خاص طور پر لبلبے اور بائل ڈکٹ کے کینسر کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے اور ادارے میں پاکستان کی پہلی روبوٹک رائٹ ہیمی ہیپاٹیکٹومی بھی کی گئی ہے، جو جدید اور کم تکلیف دہ سرجری کے شعبے میں سرکاری اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روبوٹک سرجری کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟ جان کر حیران رہ جائیں گے

پی کے ایل آئی کے ڈین ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے بتایا کہ ادارے نے مختلف شعبوں میں تقریباً 500 روبوٹک سرجریز کامیابی سے مکمل کر لی ہیں، جس سے پیچیدہ لبلبہ اور جگر کے آپریشن اب پاکستان میں ہی ممکن ہو گئے ہیں اور مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ڈاکٹر فیصل کے مطابق وہپل سرجری روایتی طور پر بڑے چیروں کے ذریعے کی جاتی تھی، جس میں صحت یابی کا دورانیہ طویل اور پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا تھا، مگر روبوٹک سرجری میں چھوٹے چیروں کے ذریعے زیادہ درستگی کے ساتھ آپریشن کیا جاتا ہے، جس سے خون کا ضیاع کم، پیچیدگیاں کم اور مریض کی جلد صحت یابی ممکن ہوتی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے اس کامیابی کا سہرا پنجاب حکومت کی مسلسل معاونت کو دیا، جس کی بدولت جدید جراحی ٹیکنالوجی اور ماہرین کی تربیت میں سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مستقبل کے طبی اداروں کے لیے پی کے ایل آئی کے انتظامی ماڈل کو اپنانے پر غور کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:جماعت اوّل تا بارہویں کیلئے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب منظور

یہ تاریخی کامیابی پی کے ایل آئی کے بین الاقوامی میڈیکل سمپوزیم کے موقع پر سامنے آئی، جس میں ہزاروں مندوبین اور عالمی ماہرین نے شرکت کی، جن میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندگان بھی شامل تھے۔ اس پیش رفت سے جدید جراحی تربیت، طبی جدت اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی روبوٹک سرجریز پاکستان میں کینسر کے علاج میں نیا معیار قائم کریں گی، جبکہ مریضوں کے لیے کم درد، کم پیچیدگیاں اور تیز صحت یابی کے امکانات کو فروغ دیں گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *