سابق عالمی کرکٹ کپتانوں کی جانب سے عمران خان کے حق میں لکھے گئے خط پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے اس خط کو عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ خط انسانی ہمدردی کے نام پر پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام پر دباؤ ڈالنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان خود کو بے قصور سمجھتے ہیں تو وہ عدالتوں کے ذریعے فیصلے کا سامنا کرنے کے بجائے غیر ملکی سابق کرکٹرز کو کیوں متحرک کر رہے ہیں۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد صارفین نے لکھا کہ ماضی میں بھی طاقتور سیاسی شخصیات نے احتساب سے بچنے کے لیے اسی طرح کے حربے استعمال کیے، پہلے عالمی رائے عامہ ہموار کی گئی اور پھر کسی نہ کسی شکل میں ریلیف حاصل کر لیا گیا۔ صارفین کے مطابق عالمی کرکٹرز کا یہ خط بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ خط میں عمران خان کی صحت اور قید کے حالات کو نمایاں کر کے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ ان کے بقول عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق تمام سہولیات حاصل ہیں اور ان پر عائد الزامات عدالتوں میں ثابت ہو چکے ہیں۔
بعض صارفین نے لکھا کہ کرکٹ کی کامیابیاں یا عالمی شہرت کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتیں اور اگر ہر بااثر شخص کے لیے بیرونی شخصیات خطوط لکھنا شروع کر دیں تو ملک میں انصاف کا نظام بے معنی ہو جائے گا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’یہ خط این آر او ہی ہے، بس نام انسانی حقوق رکھ دیا گیا ہے‘۔
سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ غیر ملکی کرکٹرز کو پاکستان کے اندرونی قانونی معاملات میں مداخلت کا کیا اختیار ہے اور کیا اس طرح کے خطوط عدالتی خودمختاری کو متاثر نہیں کرتے۔
مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر غالب رائے یہی نظر آ رہی ہے کہ عالمی کرکٹرز کا یہ خط عمران خان کے لیے ایک اور این آر او کی کوشش ہے، جسے عوامی حلقوں کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے اور اس پر شدید تنقید جاری ہے۔