نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے نہ صرف کاروباری افراد بلکہ عام صارفین بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
شرح سود میں کمی اور مختلف قرضہ اختیارات کی موجودگی کی وجہ سے گاڑی، ذاتی ضروریات یا کاروباری سرمایہ کاری کے لیے قرض لینا اب پہلے سے زیادہ سستا، آسان اور قابل رسائی ہو گیا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں پرائیویٹ سیکٹر کے قرضوں کا مجموعی حجم 10 ہزار 342 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جنوری 2025 میں یہ حجم 9 ہزار 706 ارب روپے تھا، یعنی ایک سال میں 6.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گاڑیوں کی فنانسنگ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جنوری 2026 میں آٹو فنانسنگ کا حجم 328 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جنوری 2025 میں 242 ارب روپے تھا، یعنی سالانہ بنیاد پر 35.8 فیصد اضافہ۔ ماہانہ بنیاد پر بھی آٹو فنانسنگ میں 2.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، شرح سود میں کمی کی وجہ سے آٹو فنانسنگ میں بہتری کا یہ رجحان جاری ہے۔
اسی دوران بزنس قرضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور جنوری 2026 میں یہ 5.3 فیصد بڑھ کر مزید فعال ہوا۔
پرسنل فنانسنگ میں نمایاں 16.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کنزیومر فنانسنگ بھی 20.5 فیصد تک بڑھ گئی۔ مزید یہ کہ کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں 30 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔
بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے اور شرح سود میں کمی سے واضح ہوتا ہے کہ صارفین کے لیے قرض لینا اب زیادہ سہل اور فائدہ مند ہو گیا ہے، چاہے یہ آٹو فنانسنگ ہو، پرسنل لون، بزنس کریڈٹ یا کریڈٹ کارڈ کی سہولت، تمام شعبوں میں اضافہ صارفین کی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف قرض لینے والوں کے لیے خوش آئند ہے بلکہ معیشت میں سرمایہ کاری اور صارفین کی خریداری کی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔