ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں بحیرۂ عمان میں شروع

ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں بحیرۂ عمان میں شروع

ایران اور روس بحیرۂ عمان میں مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی روابط جاری ہیں، تاہم خلیجی خطے میں فوجی تیاریوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپس کی موجودگی اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کے قریب سرگرمیاں صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ISNA کے مطابق مشق کے ترجمان ریئر ایڈمرل حسن مقصودلو نے بتایا کہ یہ مشترکہ مشق بحیرۂ عمان اور شمالی بحر ہند کے کچھ حصوں تک پھیلے گی۔

ان کے مطابق مشقوں کا مقصد میری ٹائم سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت کے مظاہرے اور سفارت کاری کے بیک وقت اقدامات بعض اوقات کشیدگی کم کرنے کے بجائے بڑھا بھی سکتے ہیں، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خلیج میں اسٹریٹجک توازن اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ اجلاس میں شریک ہوں گے، ترجمان دفتر خارجہ

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *