امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نتظامیہ ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کے قریب پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری کے آغاز میں امریکا ایران کو کاری ضرب لگانے کے قریب تھا تاہم معاملہ نہایت حساس نوعیت اختیار کر گیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں پر حملہ امریکی نقطہ نظر سے ایک نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے ممکنہ مذاکرات کے دوران اپنی سرخ لکیریں مقرر کر رکھی ہیں اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو فوجی آپریشن بھی خارج از امکان نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Washington اور Tehran کے درمیان اب بھی گہرا اختلاف موجود ہے اور فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوجی بیڑے اور لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیے گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی معیشت پر بھی سنجیدہ اور فوری نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا ، امریکی صدرٹرمپ

