پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین بگٹی نے آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کے دوسرے مرحلے کے دوران قومی ٹیم کی ناقص رہائش اور خوراک کے معاملے پر عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق بگٹی کا کہنا تھا کہ اگر اس تمام معاملے میں وہ قصور وار ہیں تو صرف استعفیٰ کافی نہیں، بلکہ ہر سطح پر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنا استعفیٰ فیڈریشن کے پیٹرن انچیف اور وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا ہے۔
صدر پی ایچ ایف نے واضح کیا کہ قصور فیڈریشن کا نہیں بلکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کا ہے، جو معاملات کو درست انداز میں منیج کرنے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کے لیے بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث ریزرویشن منسوخ ہوئی، جس کے بعد کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی، جو ہرگز نہیں ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود فیڈریشن نے بہترین انتظامات کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے اور رقم جاری بھی کی، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے انہیں 2 سال کام کرنے کا موقع دیا۔ تاہم انتظامی اور مالی امور میں تاخیر کے باعث مسائل پیدا ہوئے۔
ذرائع کے مطابق صدر ہاکی فیڈریشن جلد ہی آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کے دوران پیش آنے والے معاملات سے متعلق تفصیلی حقائق سامنے لائیں گے اور اصل ذمہ داران کی نشاندہی کریں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ رپورٹ میں شامل مالی معاملات اور بدانتظامی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ادھر قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر 2 سال کی پابندی عائد کیے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے، تاہم پابندی کی وجوہات اور اس کی نوعیت سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ اس پیش رفت نے ہاکی حلقوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرو ہاکی لیگ جیسے بین الاقوامی ایونٹ میں قومی ٹیم کو رہائش اور خوراک کے مسائل کا سامنا ہونا نہایت افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
طارق بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ فیڈریشنز کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے اور خود کفالت کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ آئندہ ایسے مسائل پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین ہو سکے۔