ٹیکنالوجی کی دنیا کا بڑا نام بل گیٹس نے انڈیا اے آئی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، جس کے بعد اس سمٹ میں پیدا ہونے والی بدانتظامی مزید نمایاں ہوگئی اور مودی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق بل گیٹس نے آج اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل بھارت کی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت سے دستبرداری اختیار کر لی ، جس سے اس اہم تقریب کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے۔
یہ تقریب پہلے ہی شدید بد انتظامی، ایک روبوٹ تنازعے اور ٹریفک کی بندشوں پر مندوبین کی شکایات کے باعث تنقید کی زد میں تھی ، رہی سہی کسر بل گیٹس کے خطاب سے انکاراوراس کے بعد جینسن ہوانگ کی جانب سے بھی اعلیٰ سطحی شرکت منسوخ کرنے نے پوری کردی ۔
اس کانفرنس کو گلوبل ساؤتھ میں مصنوعی ذہانت پر پہلی بڑی عالمی نشست قرار دیا جا رہا تھا، جہاں بھارت نے عالمی اے آئی حکمرانی میں خود کو بڑا بلند پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اب مودی حکومت کی یہ کوشش بد انتظامی اور تنازعات کی نذر ہوچکی ہے ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ بل گیٹس اپنا خطاب اس لیے نہیں کریں گے تاکہ ’’توجہ اے آئی سمٹ کی بنیادی ترجیحات پر مرکوز رہے۔‘‘ چند روز قبل ہی فاؤنڈیشن نے ان کی عدم شرکت کی افواہوں کی تردید کرتے کہا تھا کہ وہ شرکت کے لیے تیار ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اجلاس سے خطاب کیا تھا اور اس موقع پر ان کے ہمراہ فرانس کے صدر امانویل میکرون، گوگل کے سی ای او سندر پیچائی، اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین اور اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی بھی موجود تھے۔
تاہم بھارت کی پہلی بڑی اے آئی سمٹ بدانتظامی کے باعث تنقید کی زد میں رہی، جس نے شرکا کو حیران اور ناراض کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی جس کی واضح مثال اس وقت بھی سامنے آئی جب نمائش ہالز کو اچانک عوام کے لیے بند کر دیا گیا، جس سے ان کمپنیوں میں مزید ناراضی پھیل گئی جنھوں نے اسٹالز اور پویلین قائم کیے تھے، تین روزہ بڑے ہجوم کے بعد ایکسپو ویران نظر آیا۔
بدھ کے روز بھارتی یونیورسٹی گالگوٹیاز کو اپنا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا گیا جب اس کے ایک عملے نے چین میں تیار کردہ تجارتی روبوٹک کتے کو اپنی تخلیق کے طور پر پیش کیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
پولیس نے وی آئی پی شخصیات کی آمد و رفت کو ترجیح دینے کے لیے سڑکیں بند کر دیں، جس سے دو کروڑ آبادی والے شہر دہلی میں شدید افراتفری پھیل گئی، بدھ کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ متعدد شرکا مرکزی دہلی میں کئی میل پیدل چلنے پر مجبور ہوئے کیوںکہ سڑکیں بند تھیں، ٹیکسیاں دستیاب نہیں تھیں اور شٹل سروس کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
بھارتی اپوزیشن رہنما ماہوا موئترا نے ایسی ہی ایک ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ناقص انتظامات نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔