انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ممکنہ تعصب کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔
اطلاعات ہیں کہ اگلے ماہ لندن میں 11 اور 12 مارچ کو ہونے والی دی ہنڈرڈ کی پلیئر نیلامی کے دوران 4 بھارتی ملکیت والی فرنچائز، مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز، پاکستانی کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر منتخب نہیں کریں گی۔
اخبار کے مطابق اس موقع پر 50 سے زیادہ پاکستانی کرکٹرز نے اپنی دستیابی ظاہر کی ہے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار کھلاڑی 18 مختلف ممالک سے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ جیسے جیسے بھارتی آئی پی ایل مالکان دیگر ممالک کی لیگز میں بھی ٹیمیں خرید چکے ہیں، پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے مواقع مزید محدود ہوسکتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت اور حساس ہو گیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کی ٹیمیں عموماً صرف عالمی مقابلوں میں آمنے سامنے آتی ہیں۔ اسی پس منظر میں انڈین پریمیئر لیگ میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت عملاً بند ہے، جس کی وجہ سے دیگر بین الاقوامی لیگز میں بھی ممکنہ تعصب کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مائیکل وان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ای سی بی کو اس معاملے پر فوری قدم اٹھانا چاہیے، لیگ ان کی ملکیت ہے اور ایسا ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ملک کا سب سے جامع کھیل وہ نہیں ہو سکتا جو اس طرح کے امتیاز کی اجازت دے‘۔
ای سی بی کے ترجمان نے جواب میں کہا کہ ‘دی ہنڈرڈ دنیا بھر سے مرد و خواتین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور توقع ہے کہ آٹھوں ٹیمیں اس تنوع کی عکاسی کریں گی۔ گزشتہ سیزن میں صرف محمد عامر اور عماد وسیم نے اس لیگ میں حصہ لیا تھا۔’
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو دی ہنڈرڈ جیسے عالمی معیار کی لیگ کے شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، اور پاکستانی کرکٹرز کے بین الاقوامی مواقع مزید محدود ہو جائیں گے۔