بنوں: سرہ درگہ میں پاک فوج کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جا ملے ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں خودکش حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کر لی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے اور اس گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال 4 مارچ 2025 کو رمضان المبارک کے دوران بھی اسی گروہ نے بنوں کینٹ پر حملہ کیا تھا جس کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی تھی۔ اسی طرح 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں ہونے والے فتنہ الخوارج کے حملے کے دوران میجر عدنان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری بھی اس گروپ نے قبول کی جبکہ بعدازاں ثابت ہوا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغانستان سے کی گئی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی سرپرستی خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔