وفاقی دالحکومت کی انتطامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں امن مذاکرات کے باعث بازار، پارلرز، بینک اور پارکس تاحکمِ ثانی بند رکھنے کی خبروں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق ایسی جعلی خبریں اور اطلاعات گردش کر رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے باعث مختلف سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ تاحال اس ہفتے کے دوران اسلام آباد میں کسی قسم کے امن مذاکرات کی کوئی اطلاع موجود نہیں۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسلام آباد کے تمام بس ٹرمینلز معمول کے مطابق کھلے ہیں اور تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ، بشمول فیض آباد، معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
اسی طرح ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ راولپنڈی ضلع میں نجی، سرکاری اور مال بردار ٹرانسپورٹ مکمل طور پر فعال ہے اور اس کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں ضلعی انتظامیہ فوری طور پر آگاہ کرے گی۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ اسٹینڈز کی بندش سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ ایک ٹریفک پولیس اہلکار کے مطابق اسلام آباد میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی بندش کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔
حکام نے مزید کہا کہ بس ٹرمینلز یا بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کیا گیا تو اسے پیشگی طور پر سرکاری ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔
متعلقہ اہلکار نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف مصدقہ معلومات پر انحصار کریں اور اسلام آباد و راولپنڈی میں لاک ڈاؤن سے متعلق غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔