ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لیے تیار نہیں، کیونکہ واشنگٹن اہم معاملات پر اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایک بیان میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تہران امریکا کو افزودہ یورینیم دینے پر بھی آمادہ نہیں اور اسے ایک ناقابل قبول شرط قرار دیا انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطہ موجود ہے،تاہم ایران کی خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے ایک جامع فریم ورک معاہدہ طے کیا جائے تاکہ بنیادی نکات پر پیشگی اتفاق ممکن ہو سکے ،اس حکمت عملی کا مقصد مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا اور غیر ضروری تعطل سے بچنا ہے۔
سعید خطیب زادہ نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے خاص طور پر ایران پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا حل نکالے بغیر کسی بھی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ایران کی پالیسی واضح ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ باوقار اور متوازن مذاکرات چاہتا ہےاور اسی تناظر میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار امریکا کے رویے اور لچک پر ہوگا۔