کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی فخرِ پاکستان شازیہ بتول نے جسمانی معذوری کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے طاقت میں بدل کر تعلیمی اور سماجی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں تمغۂ امتیاز اور “پرائیڈ آف آنر” جیسے اعزازات سے نوازا جانا ان کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
شازیہ بتول کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مشکلات کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت سمجھا۔ ان کے مطابق عزم، صبر اور مستقل مزاجی وہ اوصاف ہیں جن کی بدولت ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمت جواں ہو تو جسمانی رکاوٹیں خوابوں کی تعبیر میں دیوار نہیں بن سکتیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی کامیابی ہر اس فرد کے لیے پیغام ہے جو مشکلات کا بہادری سے سامنا کر رہا ہے اور ہمت نہیں ہارتا۔ شازیہ بتول کے بقول ایمان، محنت اور حوصلے کے ساتھ ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے اور حالات چاہے جیسے بھی ہوں، انسان کا عزم اس کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نمایاں اور باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی دراصل اس عزم کا اعادہ ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کو نہ صرف پہچانا جائے بلکہ اسے آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ شازیہ بتول کی کامیابی بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دی جا رہی ہے اور انہیں نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کہا جا رہا ہے۔