خواتین کے لیے بڑی خوشخبری، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ حاصل کرنے کا نادر موقع

خواتین کے لیے بڑی خوشخبری، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ حاصل کرنے کا نادر موقع

صوبہ خیبر پختونخوا کی خواتین کے لیے بااختیار بننے اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھنے کا سنہری موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام 2025 تا 2026 کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کے تحت منتخب امیدواروں کو 6 ماہ تک ماہانہ تیس ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق یہ پروگرام خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس انٹرن شپ کے دوران شرکا کو جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں عملی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مقامی اور عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:بینظیر تعلیمی وظائف اسکیم کے لئے رجسٹریشن کا طریقہ کار جانئے

پروگرام کے تحت انٹرنز کو مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ، ایپلیکیشن ڈویلپمنٹ، یوزر انٹرفیس اور یوزر تجربہ ڈیزائن، گرافک ڈیزائن اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے اہم شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ ماہرین کی نگرانی میں عملی منصوبوں پر کام کروایا جائے گا تاکہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ حقیقی تجربہ بھی حاصل ہو۔

منتخب خواتین کو صوبے کے آئی ٹی پارک کمپنیوں، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن یونٹ اور بورڈ کے مرکزی دفتر میں تعینات کیا جائے گا، جہاں وہ صنعت سے متعلقہ ماحول میں کام کر کے پیشہ ورانہ مہارتیں سیکھ سکیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام مکمل کرنے والی خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھنے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

اس اقدام کا مقصد خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینا، جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں صنفی فرق کو کم کرنا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ پروگرام صوبے میں ڈیجیٹل ترقی کے وژن کا اہم حصہ ہے۔

دلچسپی رکھنے والی امیدوار خواتین سرکاری پورٹل https://joinit.kp.gov.pk/list/jobs کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرا سکتی ہیں۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 13مارچ 2026 مقرر کی گئی ہے۔ حکام نے اہل خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل اپنی درخواست مکمل تفصیلات کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملے گی بلکہ صوبے کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

Related Articles