ایران کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ امریکی حکام نے شرکت کی اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹر ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سمیت دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں،اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین بھی اجلاس کا حصہ تھے۔
اجلاس میں خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری و متوقع مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا،امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران کم از کم ایک مرتبہ سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا۔
یہ اہم مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی پندرہ روزہ مدت ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں،صدر ٹرمپ اس سے قبل عندیہ دے چکے ہیں کہ اسی ہفتے کسی معاہدے کا امکان ہے، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ طے نہیں کی جا سکی۔
ایک اہم امریکی عہدیدار کے مطابق اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ چند روز میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے،دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث عالمی سطح پر بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔