جرمنی کے ایک مصروف اور معروف ریلوے اسٹیشن پر اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک 35 سالہ افغان شہری نے اچانک چاقو نکال کر وہاں موجود افراد پر حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے اسٹیشن کے احاطے میں قائم یہوواہ وٹنس کے معلوماتی اسٹینڈ پر موجود افراد کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند وار کیے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کر گیا اور اسٹیشن پر موجود مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امدادی ٹیموں اور طبی عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
واقعے کے دوران موقع پر موجود چند بہادر شہریوں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور بالآخر اسے زمین پر گرا کر بے اثر کر دیا۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی اہلکار چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی مکمل شناخت اور پس منظر کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابھی تک اس حملے کے محرکات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم سیکیورٹی ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں ذاتی دشمنی، مذہبی تعصب یا ذہنی مسائل کے امکانات بھی شامل ہیں۔
اس واقعے نے 2021 میں پیش آنے والے ایک خونریز حملے کی یاد تازہ کر دی، جب وارزبرگ میں ایک پناہ گزین نے چاقو کے وار کر کے تین خواتین کو ہلاک اور نو افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ اس سانحے کے بعد جرمنی میں سیکیورٹی اور مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر شدید بحث چھڑ گئی تھی۔
تازہ واقعے کے بعد بھی سیاسی و سماجی حلقوں میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور عوامی مقامات پر نگرانی بڑھانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے اور ریلوے اسٹیشنز پر چیکنگ کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے گا۔