حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں ڈائریکٹ کمی کرے گی،شہباز شریف

حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں ڈائریکٹ کمی کرے گی،شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں ڈائریکٹ کمی کرے گی اور بالواسطہ محصولات کی ادائیگی میں چوری کو ہر صورت روکا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار پاکستان گورننس فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ چینی، سیمنٹ اور تمباکو کے شعبے بالواسطہ محصولات کی عدم ادائیگی میں سرفہرست ہیں، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محصولات کا نظام منصفانہ اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دیانتدار کاروباری طبقے پر غیر ضروری بوجھ کم ہو اور قومی آمدن میں اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ شرح محصولات برائے مجموعی قومی پیداوار تقریباً ساڑھے دس فیصد ہے، جسے بڑھانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تاہم آئندہ مالی منصوبے میں براہِ راست محصولات میں کمی پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں :قومی شپنگ ادارے میں تاریخی تبدیلی، این ایل سی کو بھی حصص مل گئے، وزیر اعظم نے بڑی منظوری دیدی

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا کام خود تجارت کرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سہولیات فراہم کرنا ہے،انہوں نے زور دیا کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ناگزیر ہے اور قرضوں کا خاتمہ کسی جادوئی طریقے سے ممکن نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور پائیدار اصلاحات سے ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مجموعی معاشی صورتحال مزید بہتر ہو سکے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ محکمہ تعمیرات عامہ اور یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے اداروں کے خاتمے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں فی یونٹ سات روپے کمی کی گئی ہے جبکہ دو سو ارب روپے کی بجلی چوری کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

پالیسی شرح سود بائیس فیصد سے کم ہو کر ساڑھے دس فیصد پر آ چکی ہے اور مہنگائی کی شرح اڑتیس فیصد سے کم ہو کر یک عددی سطح پر آگئی ہے، جو مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے،انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور مزید محنت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ جون دو ہزار تیئیس میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا، مگر اجتماعی کوششوں سے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت ممکن ہوئی اور آج مجموعی اقتصادی صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ حوصلہ افزا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *