ملک میں بجلی صارفین کیلئے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان سامنے آیا ہےجہاں بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ایک ماہ کے لیے 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ اضافے کی دائر درخواست پر سماعت ہوئی، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی۔
اس حوالے سے نیپرا نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں جاری کیا جائے گا، حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق جو بھی فیصلہ ہو گا اس کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہو گا۔
اس سماعت میں بریفنگ دی گئی کہ جنوری میں 8 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی گئی، بریفنگ کے مطابق جنوری میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 10 روپے 39 پیسے تھا تاہم اصل فی یونٹ فیول لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی۔
سماعت کے دوران نیپرا اتھارٹی نے مہنگے فرنس آئل پلانٹس سے بجلی کی پیداوار پر برہمی کا اظہار کیا، اتھارٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع موجود ہیں تو پھر مہنگے ایندھن سے بجلی کیوں بنائی گئی۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی کہ پیداواری لاگت کم رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کی گئی۔
اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتا ہے تو اس اضافے کا اطلاق آئندہ مہینے کے بلوں میں کیا جا سکتا ہے، اس اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین پر ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں واضح کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کی قیمت میں وہ رد و بدل ہے جو عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی بیشی کے مطابق ہر ماہ کیا جاتا ہے، اس کا مقصد بجلی کی اصل پیداواری لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان فرق کو پورا کرنا ہوتا ہے۔