ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران عثمان ڈار کی جانب سے ایڈووکیٹ ابوذر سلمان خان نیازی نے دلائل دیے۔
عدالت نے عثمان ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ وہ ایک مقدمے میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں جس میں ان کی باقاعدہ ضمانت منظور ہو چکی ہے اور وہ باقاعدگی سے ٹرائل میں پیش ہو رہے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ عثمان ڈار قانون کے پابند شہری ہیں، لہٰذا ان کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے بھی نکالنے کا حکم دیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کی۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔