خیبر پختونخوا حکومت کےصحت سہولت پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

خیبر پختونخوا حکومت کےصحت سہولت پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

خیبر پختونخوا حکومت کے فلاحی منصوبے صحت سہولت پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے؛ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے درجنوں ڈاکٹروں نے صبح کی سرجریوں کو شام میں ظاہر کرکے صحت کارڈ کے زریعے کروڑوں روپے کمائے۔

اس کے علاوہ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے صحت کارڈ کے حکومتی فارمولے میں ترامیم کرکے ہسپتال کی آمدن کے حصے کو کم کرکے اپنا حصہ بڑھا دیا۔

حکومت نے صحت سہولت پروگرام شہریوں کو علاج کی مالی سہولت دینے کیلئے متعارف کرایا تھا، تاہم دستیاب دستاویزات کے مطابق اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ذاتی مالی فائدے کیلئے استعمال کیا گیا۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال ریکارڈ کے مطابق اس وقت ہسپتال میں 108 کنسلٹنٹس شام کے وقت ادارہ جاتی پریکٹس کرتے ہیں جن میں سے 30 کے لگ بھگ سرجیکل اور الائیڈ کنسلٹنٹس نے صحت کارڈ کو اپنی امدن کا زریعہ بنایا۔

ہسپتال رولز کے مطابق صبح کے وقت صحت کارڈ پر ہونے والےعلاج سے جو آمدن موصول ہوگی وہ سو فیصد ہسپتال کے اکاونٹ میں جمع کی جائیگی جس میں سے کسی کو بھی شئیئر نہیں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں :جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، کے پی اصلی حکومت میں بھی 13 سال سے کیوں پسماندہ ہورہا ہے، طالبہ کا سہیل آفریدی سے سوال

تاہم ادارہ جاتی پریکٹس کے دوران اگر ڈاکٹرز صحت کارڈ پر علاج کرتے ہیں تو اس میں 32 فیصد شیئر ہسپتال کو ملے گا اور باقی ڈاکٹرز و دیگر عملہ میں تقسیم ہوگا۔

جنوری 2020 میں محکمہ صحت نے ہستپالوں کو صحت کارڈ سے موصول ہونے والی آمدن شیئر کرنے کا فارمولہ نوٹیفائی کیا جس کے تحت ہسپتال کو 45 فیصد، ڈاکٹروں کو 30 فیصد، نرسنگ، پیرامیڈیکل و دیگر کیلئے 15 فیصد جبکہ ایڈمنسٹریشن کا حصہ 10 فیصد تھا ۔ڈاکٹروں نے لابنگ کرتے ہوئے ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کے زریعے 28 اپریل 2022 میں پرافٹ شیئرنگ کے اس فارمولے میں ردو بدل کیا۔

ترمیم شدہ فارمولے کے تحت ڈاکٹروں کے شیئر کو 30 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کردیا گیا اور ہسپتال کے شیئر کو 45 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کردیا گیا، 15 فیصد انستیزیا، 3 فیصد ایڈمنسٹریشن اور 5 فیصد ٹیکنشینز کا شیئر صرف 6 ماہ کیلئے مقرر کردیا گیا لیکن یہ فارمولہ ابھی تک جاری ہے۔

2022 سے لیکر اکتوبر 2025 تک صحت کارڈ کے زریعے ہونے والے بیس ہزار سے زائد آپریشن میں سے 3 ہزار 921 آپریشنز میں خورد برد کی گئی۔

مذکورہ سرجریز صبح کے وقت ہوئیں لیکن ان کو شام میں ظاہر کیا گیا ہے جبکہ شام کے وقت ریکارڈ میں ان مریضوں کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہے۔

508 مریضوں سے آپریشن کیلئے نقد رقم بھی لی گئی ہے اور صحت کارڈ سے بھی ان کے پیسے وصول کئے گئے ہیں تاہم 3 ہزار 413 آپریشنز صبح سے شام کو منتقل کئے گئے ہیں لیکن ان سے نقد رقم نہیں لی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی مد میں مذکورہ ڈاکٹروں نے 1 کروڑ 4 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، اپریشن تھیٹر کے فارمیسی سے مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کر کے پھر وہی ادویات دوسرے مریضوں پر فروخت کی گئیں۔ اس عرصہ کے دوران 50 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہسپتال کو پہنچایا گیا۔

ملوث ڈاکٹروں میں سے شعبہ پیڈز یورالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر طارق نے 74 لاکھ 60 ہزار نقد جبکہ 1 کروڑ 22 لاکھ 53 ہزار صحت کارڈ کے زریعے وصول کئے، شعبہ سرجری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے 54 لاکھ 6 ہزار نقد اور 1 کروڑ 80 لاکھ 6 ہزار صحت کارڈ کے زریعے وصول کئے

، نیورو سرجری کے اسسٹنٹ پروفیسر ادریس خان نے 2 کروڑ 67 لاکھ 78 ہزار نقد، اور 1 کروڑ 33 لاکھ 23 ہزار صحت کارڈ کے زریعے وصول کئے۔

شعبہ نیورو سرجری کے اسسٹنٹ پروفیسر سجاد اللہ نے 14 لاکھ نقد اور 40 لاکھ 48 ہزار صحت کارڈ کے زریعے وصول کئے، شعبہ سرجری کے اسسٹنٹ پروفیسر منیر احمد نے 2 لاکھ 74 ہزار نقد اور 48 لاکھ 49 ہزار صحت کارڈ کے زریعے، سرجری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یونس خان نے 19 لاکھ نقد اور 1 کروڑ 37 لاکھ صحت کارڈ کے زریعے وصول کئے۔

دیگر ڈاکٹروں میں ڈاکٹر حزب اللہ جان، ماہ منیر، ڈاکٹر نازلی، محمد عزیز، نعیم خٹک، ای این ٹی کے محمد عمران، محمد افتاب احمد خان، سید اسد معروف، بلال و دیگر شامل ہیں۔

آمدن کے باوجود خسارہ

ریکارڈ کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران ہسپتال کو صحت کارڈ کی مد میں 2 ارب 15 کروڑ روپے ؤصول کئے، مالی سال 2023 اور 24 کے دوران اداہ جاتی پریکٹس سے 59 کروڑ 20 روپے کی امدن ہوئی لیکن اس کے باوجود اسی سال ہسپتال کو 6 کروڑ 54 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

تاہم انٹرنل اڈٹ رپورٹ میں بھی یہ انکشاف ہوا کہ ادارہ جاتی پریکٹس ہسپتال پر مالی بوجھ بن گیا ہے اور مستقل طور پر ہسپتال کو ہر سال 5 سے 6 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

کیونکہ ہسپتال اپنے فنڈ سے اسسٹنٹ پروفیسر کو ایک لاکھ انسینٹیو، ایسوسی ایٹ پروفیسر کو 1 لاکھ 25 ہزار اور پروفیسر کو 1 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ دئیے جاتے رہے لیکن تقریبا ایک ماہ سے اس انسینٹیو کو بند کردیا گیا۔

108 کنسلٹنٹس میں سے پچاس سے زائد مالی لحاظ سے ہسپتال پر بوجھ بن گئے ہیں، 10 تو ایسے ہیں جو ادارہ جاتی پریکٹس میں 3 گھنٹے سے بھی کم وقت گزارتے ہیں، جبکہ 23 حاضری بھی نہیں لگاتے۔

بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کرنل (ر) ڈاکٹر واجد علی کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ٹیم کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیل دینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب سرکاری دستاویزات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا نے بھی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض تنولی کے مطابق صوبے بھر میں اس وقت 155 ہسپتال پروگرام میں شامل ہیں، جن میں 61 سرکاری ہسپتال ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت دو ہزار سے زائد بیماریوں اور مخصوص کیسز میں تین اقسام کے ٹرانسپلانٹس کئے جا رہے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ خاندانوں کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ آٹھ لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ بجٹ 32 سے 33 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ صحت کارڈ کے تحت ہر خاندان کو دس لاکھ روپے تک علاج معالجے کی سہولت میسر ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *