امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہو گا؟، امریکی ٹی وی کا دعویٰ سامنے آگیا

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہو گا؟، امریکی ٹی وی کا دعویٰ سامنے آگیا

مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی کوششوں کے لیے پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا محور بن گیا ہے، امریکی ٹیلی ویژن نےایران کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر سے اسلام آباد میں ہوگا۔

امریکی ٹیلی ویژن سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان انتہائی اہمیت کے حامل مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز پاکستان میں منعقد ہوگا اور اس حوالے سے ایرانی اعلیٰ حکام نے تصدیق کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان مذاکرات پر یقین رکھنے والا پرامن ملک ہے،کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا، ایئر چیف مارشل

اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی تک اس شیڈول کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی، تاہم سفارتی حلقوں میں اسے تناؤ کے خاتمے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص سخت لہجے میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر بدھ تک کسی حتمی معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ “بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنا پڑے گی”۔ واضح رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور بھی اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی تھی۔

مذاکرات کی خبروں کے ساتھ ہی زمین اور فضا میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بعد آبنائے ہرمز پر بحری آمد و رفت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں آئل ٹینکرز اور تجارتی کنٹینرز کے طویل قافلے گزر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکہ ایران مذاکرات آگے بڑھانے ، خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے ، شہباز شریف

مزید برآں ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک کے مشرقی حصے کی فضائی حدود کو بین الاقوامی کمرشل پروازوں کے لیے کھول دیا ہے، جس سے عالمی فضائی سفر میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی توقع ہے۔ 18 اپریل 2026 کو سامنے آنے والی ان پیش رفتوں نے عالمی برادری کو امید اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ بحران، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اب ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران اور پاکستانی قیادت کی مسلسل کوششوں نے دونوں فریقین کو میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ’بمباری‘ کی دھمکی دراصل مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ ایران اپنی فضائی حدود اور آبی گزرگاہیں کھول کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں معاشی استحکام کا خواہاں ہے، بشرطیکہ اس کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *