وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت قائم ہے اور طالبان نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انہیں آپریشن غضب للحق اور پاک افغان صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان نے افغان جارحیت کا مؤثر انداز میں جواب دیا اور افغانستان کی متعدد پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ حاصل کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانستان کے شہری ملوث تھے، جبکہ حالیہ عرصے میں اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس اور امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی افغان سرزمین استعمال ہوئی۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں محفوظ نہیں اور افغان شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت غیر قانونی ہے جو طاقت کے زور پر قائم کی گئی۔
وزیر اطلاعات کے مطابق طالبان کے نئے مجرمانہ ضابطے نے غلامی، تشدد اور خواتین پر جبر کو قانونی حیثیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا یہ نیا ضابطہ قاہرہ اعلامیہ کی بنیادی ضمانتوں سے متصادم ہے اور اس میں تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور کنونشنز کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس ضابطے کے تحت معاشرے کو حیثیت کی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا ہے، جو اسلامی اصولِ مساوات اور انسانی وقار سے بھی متصادم ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ طالبان کے نئے ضابطے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی براہِ راست خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 18 سے 29 سال کی عمر کی تقریباً 80 فیصد نوجوان افغان خواتین تعلیم سے محروم ہیں اور افغانستان میں دنیا میں مزدور قوت کے حوالے سے صنفی فرق سب سے زیادہ ہے۔ طالبان کی جانب سے وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو خواتین کو مختلف شعبوں میں کام کرنے سے روکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں فیصلہ سازی کے عمل سے خواتین کی نمائندگی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور خواتین کو جان بوجھ کر سیاسی فیصلہ سازی کے تمام سطحوں سے باہر رکھا گیا ہے۔