افغانستان کو منہ توڑ جواب دیے جانے پر شاہد آفریدی کا ردعمل آگیاَ

افغانستان کو منہ توڑ جواب دیے جانے پر شاہد آفریدی کا ردعمل آگیاَ

شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ بابرکت ماہِ رمضان کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پڑوسی ملک کی جانب سے ایک بار پھر حملہ کیا گیا، جس کا پاکستانی افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا اور ملک کی سرزمین و عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

سابق کپتان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آپریشن “غضب للحق” کے تناظر میں پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پُرامن ذرائع اختیار کیے۔ ان کے بقول پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک نے بھی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور فریقین کو تحمل اور دانشمندی کا مشورہ دیا، تاہم ان تمام کاوشوں کے باوجود

سرحدی دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن ’غضب للحق‘ کیا ہے؟ یہ نام کیوں رکھا گیا؟

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ بحیثیت مسلمان ہم سب کی خواہش ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عبادت اور تقویٰ کو فروغ دیا جائے، نہ کہ خونریزی اور تنازعات کو۔ انہوں نے زور دیا کہ امن ہی خطے کے مفاد میں ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ماضی میں ہر مشکل گھڑی میں افغان عوام کا ساتھ دیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون جاری رکھا۔ ان کے مطابق افغانستان کو علاقائی سیاست میں محتاط کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔

سابق کپتان نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ قومی دفاع اور استحکام کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *