پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، امریکا کا دو ٹوک اعلان

پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، امریکا کا دو ٹوک اعلان

پاکستان اور افغانستان میں  طالبان رجیم کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا کی جانب سے ایک اہم سفارتی بیان سامنے آیا ہے جس نے خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید و حمایت کی گئی ہے۔

 واشنگٹن نے واضح طور پر افغانستان میں طالبان رجیم کی حملوں کے خلاف پاکستان کے ‘حقِ دفاع’ کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جسے مبصرین خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان افغانستا ن کےساتھ بہت اچھا کررہاہے ،مداخلت نہیں کروں گا ، امریکی صدر

امریکی محکمہ خارجہ میں انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ ایلیسن ایم ہوکر نے کہا کہ امریکا پاکستان اور طالبان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں مزید بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔

امریکی مؤقف کیا ہے؟

امریکا کے محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں کسی براہِ راست عسکری مداخلت کا عندیہ نہیں دیا گیا، تاہم سفارتی سطح پر پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا خطے میں استحکام کو اہمیت دیتا ہے اور کسی بھی بڑے تصادم سے بچاؤ چاہتا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف بظاہر یہ ہے کہ سرحد پار حملوں کے تناظر میں پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات

امریکا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ ہیں اور حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی سفارتی حمایت پاکستان کے لیے ایک اہم پیغام ہے، خاص طور پر ایسے مرحلے پر جب علاقائی سیاست غیر یقینی کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ

دوسری جانب، امریکا نے طالبان کے ساتھ براہِ راست تصادم یا کسی عسکری اتحاد کی بات نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکا کا یہ بیان نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی پر عالمی توجہ کا بھی مظہر ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سفارتی رابطے کس سمت جاتے ہیں اور آیا یہ حمایت کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *