’آپریشن غضب للحق‘:اب تک 331 طالبان کارندے ہلاک، 500 زخمی، 104 چیک پوسٹیں، 163 ٹینک، گاڑیاں تباہ ہوئیں،عطا اللہ تارڑ

’آپریشن غضب للحق‘:اب تک 331 طالبان کارندے ہلاک، 500 زخمی، 104 چیک پوسٹیں، 163 ٹینک، گاڑیاں تباہ ہوئیں،عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ‘آپریشن غضب للحق’ کی تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے سرحدی محاذوں پر ‘فیصلہ کن برتری’ حاصل کر لی ہے اور کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اب تک افغان طالبان کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 163 ٹینک اور گاڑیاں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کیا کہنا ہے؟

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے نیو افغان 8 پوسٹ کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔ زؤبا سیکٹر میں افغان طالبان کی ڈیلٹا پوسٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کانڈک سی بیس چترال کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ خیبر پوسٹ کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی افغانستان میں ملٹری ٹھکانوں کے خلاف کارروائی ’انتہائی درست ‘، کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بی بی سی

عسکری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ کارروائیاں مخصوص انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور نشانہ صرف عسکری تنصیبات اور جنگی ساز و سامان کو بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اطلاعات کا مؤقف

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے ہر محاذ پر جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بلا اشتعال جارحیت کا ہر سطح پر بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور سکیورٹی فورسز افغان طالبان کے فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سرحدی دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

خطے کی صورتحال اور ممکنہ اثرات

واضح رہے کہ اگر نقصانات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ سرحدی تنازع میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

موجودہ صورتحال میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق‘ نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس آپریشن کے نتائج اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *