پاک افغان کشیدگی، بھارتی میڈیا ایک بار پھر جعلی خبروں اور افواہیں پھیلانے میں پیش پیش، گودی میڈیا نے مئی کی تاریخ دہرا دی

پاک افغان کشیدگی، بھارتی میڈیا ایک بار پھر جعلی خبروں اور افواہیں پھیلانے میں پیش پیش، گودی میڈیا نے مئی کی تاریخ دہرا دی

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے اگلی پوسٹوں پر جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت متعدد افغان صوبوں میں فضائی حملے کر کے افغانستان میں طالبان کارندوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے؎

دوسری جانب سوشل میڈیا پر طالبان نے جوابی کارروائیوں میں کامیابی کے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں جن میں ایک پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کا بھی ذکر ہے، جسے بھارتی میڈیا بریکنگ نیوز کے طور پر پھیلا رہا ہے، جو کہ ایک ’اے آئی‘ سے بنائی گئی ویڈیو او فوٹیج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گا،وزیر دفاع

اس ساری کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے حسب روایت غیر مصدقہ دعووں، ترمیم شدہ ویڈیوز اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کو پھیلانے میں مصروف عمل ہے، جو مئی کے مہینے میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کی لہر کی یاد دلاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے صورتحال کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا۔ جبکہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے طالبان کے فوجی ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی حملے کیے جن میں کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور لغمان شامل ہیں۔

ادھر افغان فوجی ترجمان کا ایک جھوٹا دعویٰ سوشل میڈیا پر بھارتی میڈیا نے وائرل کیا کہ پاکستان ایئر فورس کا ایک جیٹ مار گرایا گیا، پائلٹ پیراشوٹ سے اترا اور زندہ گرفتار ہو گیا۔

ادھر طالبان حکام نے پاکستانی اہداف پر حملوں کی ویڈیوز جاری کیں اور پاکستانی حملوں میں اپنے شہریوں کے مارے جانے کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا، عالمی میڈیا سمیت پاکستان نے جیٹ گرائے جانے کے دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا، حتیٰ کہ بی بی سی نے کا کہا پاکستان نے انتہائی مؤثر انداز میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں کوئی شہری نہیں مارا گیا۔

جوں جوں تنازع بڑھا، بھارتی میڈیا کوریج میں غیر مصدقہ دعوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا، بھارتی نیوز چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سنسنی خیز، غیر تصدیق شدہ یا بالکل جھوٹی کہانیاں پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے سمیت کئی آؤٹ لیٹس پر افغان فورسز کے ایک پاکستانی جیٹ گرائے جانے والے دعوے کو نشر کرنے پر شدید تنقید ہوئی، یہ مواد بعد میں اے آئی جنریٹڈ یا پرانی ویڈیوز سے منسلک پایا گیا۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی افغانستان میں ملٹری ٹھکانوں کے خلاف کارروائی ’انتہائی درست ‘، کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بی بی سی

پاکستانی فیکٹ چیکرز اور اکاؤنٹس نے نشاندہی کی ہے کہ کچھ بھارتی رپورٹس میں اے آئی سے تبدیل شدہ فوٹیج یا غلط مقامات ’جیسے کونڑ صوبے کے حملوں کو الجھانا‘ شیئر کیے گئے۔

ہندوستان ٹائمز، دی ہندو اور ٹائمز آف انڈیا جیسی بڑے اخباروں نے تفصیلی ٹائم لائنز دیں لیکن جیٹ واقعے، ڈرون حملوں اور ہلاکتوں کے اعداد پر ابتدائی متضاد رپورٹس بھی نشر کیں۔

پاکستانی ہینڈلز اور آزاد فیکٹ چیک نے ’ناقص تحقیق‘میں جعلی اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ یہ 2025 کے بھارت، پاکستان بحران کے دوران دیکھی گئی غلط معلومات کی لہر کی یاد تازہ کرتا ہے، جہاں دونوں طرف سوشل میڈیا اور ٹی وی کو بیانیہ کنٹرول کے لیے استعمال کیا گیا۔

بھارتی میڈیا زمینی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ فیکٹ چیکرز اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی اور علاقائی میڈیا میں بے لگام افواہیں امن کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں جبکہ دونوں ممالک اندرونی دباؤ اور دہشتگردی کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

واقعات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ دونوں طرف حکام اور آزاد ذرائع عوام سے درخواست کر رہے ہیں کہ خبروں کی تصدیق کریں اور غیر مصدقہ مواد شیئر نہ کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *