ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب، مذاکرات سے صاف انکار

ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب، مذاکرات سے صاف انکار

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ ترین قیادت نے امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

علی لاریجانی جو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران اب امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوہری مذاکرات کے سلسلے میں پس پردہ رابطوں کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تمام رپورٹس بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات جمعےکو مسقط میں ہوں گے: ایرانی و امریکی حکام کی تصدیق

اپنے بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی ’خام خیالی‘ اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں مبتلا کر دیا ہے۔ علی لاریجانی کے مطابق امریکا نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے کر حالات کو مزید خراب کیا اور اب خود اپنے فوجیوں کے ممکنہ جانی نقصان سے خوفزدہ ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد خطے کی صورتحال نہایت نازک ہو چکی ہے اور ایسے میں مذاکرات کی باتیں محض سیاسی چال ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرتا اور خطے میں عسکری دباؤ کم نہیں کرتا، اس وقت تک کسی قسم کی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ ایران کے اس سخت مؤقف سے امریکا کو سخت پیغام مل گیا ہے جس کے بعد صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ اگر سفارتی راستے بند رہے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *