خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی، ڈاکٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل، اسپتال بند، مریض رُل گئے

خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی، ڈاکٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل، اسپتال بند، مریض رُل گئے

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی احتجاجی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث صوبے کے بڑے طبی مراکز میں معمول کی طبی سہولیات بری طرح متاثر ہو چکی ہیں اور ہزاروں مریض علاج سے محروم ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی اضلاع اور مردان و مالاکنڈ ڈویژن کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور کے بڑے اسپتال بھی ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں، خیبر ٹیچنگ اسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں بھی ڈاکٹروں نے معمول کی ڈیوٹی سے بائیکاٹ کر دیا ہے، جس کے باعث بیرونی مریضوں کے شعبے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ طے شدہ آپریشن مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، ٹرینی داکٹرز کی پریس کانفرنس

صبح سویرے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض جب اسپتال پہنچے تو انہیں بیرونی مریضوں کے شعبے بند ملے، کئی مریض قطاروں میں کھڑے رہے اور بعد ازاں مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے، شدید بیمار افراد اور ان کے لواحقین نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج بھی کیا، بعض مقامات پر مریضوں اور عملے کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ڈاکٹروں کی مکمل شرکت کے بغیر بیرونی مریضوں کے شعبے کھولنا ممکن نہیں، انتظامیہ نے ہنگامی شعبے میں اضافی ڈاکٹروں کی تعیناتی کا دعویٰ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر آصف نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر مہوش کے گرفتار قاتلوں کے خلاف درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی جائیں اور ڈاکٹر مہوش اور ڈاکٹر وردہ کو سرکاری سطح پر شہدا پیکیج دیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کے تحفظ کے لیے بنائے گئے سیکیورٹی ایکٹ 2010 پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا جس کے باعث ڈاکٹر عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:دعوے ناکام! خیبرپختونخوا میں طبی عملہ غیرمحفوظ ، ڈاکٹرز صوبائی حکومت کیخلاف سراپا احتجاج

ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے بیرونی مریضوں کے شعبے بند رہیں گے، تاہم ہنگامی شعبہ فعال رکھا گیا ہے اور وہاں ڈاکٹروں کی تعداد کو دگنا کر دیا گیا ہے تاکہ جان بچانے والی سہولیات متاثر نہ ہوں۔

صوبائی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں اور مسئلے کا جلد حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری جانب شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل ہڑتال سے عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *