وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری نے بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نیا ضابطہ کار جاری کر دیا ہے، جس کے تحت شکایات کے حل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
توانائی ڈویژن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب ہر ماہ ملک بھر میں بجلی تقسیم کرنے والے اداروں کے سب ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس عمل کے ذریعے بہترین کارکردگی دکھانے والے دفاتر اور ناقص کارکردگی کے حامل سب ڈویژنز کی واضح نشاندہی کی جائے گی تاکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر توانائی نے ہدایت کی ہے کہ جو افسران یا عملہ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام بجلی کمپنیوں کے کسٹمر سروس ڈائریکٹرز صارفین کی شکایات کے حل کے حوالے سے براہ راست ذمہ دار ہوں گے اور انہیں جواب دہ بنایا جائے گا۔
حکومت نے صارفین کی سہولت کے لیے “118 سمارٹ کال سینٹر” کو ایک مکمل ون ونڈو سروس کا درجہ دے دیا ہے، جہاں صارفین اپنی تمام شکایات اور مسائل درج کرا سکتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اس کال سینٹر پر بیس لاکھ سے زائد کالز موصول ہوئیں جن میں سے چھیانوے فیصد کالز کو کامیابی کے ساتھ نمٹایا گیا۔
اسی عرصے میں صارفین کی جانب سے چوبیس لاکھ سے زیادہ شکایات درج کرائی گئیں ان شکایات کے ازالے میں اسلام آباد کی بجلی کمپنی نے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے ننانوے اعشاریہ انچاس فیصد شکایات حل کیں۔
اسی طرح لاہور کی بجلی کمپنی میں دس لاکھ سے زائد جبکہ ملتان کی بجلی کمپنی میں چھ لاکھ سے زیادہ شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی بجلی کمپنیوں کی کارکردگی بھی ننانوے فیصد سے زیادہ رہی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے پانچ بڑی بجلی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ 118 سروس کو عوام میں بھرپور انداز میں متعارف کرایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے لائن اسٹاف اور متعلقہ افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ فیلڈ میں موصول ہونے والی شکایات کو فوری طور پر حل کیا جائے اور کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے تاکہ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔