پاکستان میں تیل و گیس کا بڑا خزانہ دریافت! معیشت کے لیے گیم چینجر قرار

پاکستان میں تیل و گیس کا بڑا خزانہ دریافت! معیشت کے لیے گیم چینجر قرار

ملک کی توانائی اور معیشت کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں ماڑی انرجیز نے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ باضابطہ خط میں بتایا گیا ہے کہ ماڑی ڈی اینڈ پی ایل بلاک میں واقع شمس-1 کنویں سے گیس اور خام تیل کے نمایاں ذخائر سامنے آئے ہیں، جو ملک کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ملکی معیشت کیلئے اچھی خبر ، خام تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت

خط کے مطابق ابتدائی تخمینوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کنویں سے یومیہ تقریباً 47.98 ملین مکعب فٹ گیس اور 64 بیرل خام تیل حاصل کیا جا سکے گا، جو کہ موجودہ توانائی بحران کے تناظر میں ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق شمس-1 کنویں کی ڈرلنگ کا آغاز 30 جنوری 2026 کو کیا گیا تھا، جسے تقریباً 3075 میٹر گہرائی تک کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ ٹیسٹنگ کے دوران کنویں کا پریشر 2’404 پی ایس آئی جی ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ذخائر مضبوط اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔

ماڑی انرجیز اس بلاک کی 100 فیصد آپریٹر اور مالک ہے، جس کے باعث کمپنی کو اس دریافت سے براہ راست مالی اور اسٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف کمپنی کے شیئرز میں اضافہ متوقع ہے بلکہ ملکی توانائی کے شعبے میں بھی اعتماد بڑھے گا۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دریافت کو جلد از جلد کمرشل پیداوار میں تبدیل کیا گیا تو پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں سولر پاور کا بڑھتا رجحان، مہنگائی کی عالمی لہر کے خلاف مضبوط ڈھال

مزید برآں، اس دریافت سے مقامی صنعتوں کو سستی توانائی کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت آئندہ 2 سے 3 سالوں میں توانائی کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس کامیابی کے بعد دیگر بلاکس میں بھی تیل و گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ ملک کو توانائی کے حوالے سے خود کفیل بنایا جا سکے۔

Related Articles