مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے، امریکا اور اسرائیل کے ایران کی تیل اور گیس تنصیبات پر حملوں نے اسے خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اپنے تفصیلی بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایران کبھی بھی خطے کے پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا تھا، تاہم ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد ردعمل دینا ناگزیر ہو گیا۔ بیان کے مطابق امریکی کمپنیوں سے منسلک توانائی مراکز کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ’دباؤ کا توازن‘ قائم کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور قطر میں متعدد اہداف پر میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد پورے خطے میں ہنگامی حالت جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔
قطر کے صنعتی شہر راس لفان میں واقع دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی برآمدی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور دھوئیں کے بادل دور دور تک دیکھے گئے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اس حملے کے عالمی گیس سپلائی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں حبشان گیس تنصیبات اور باب آئل فیلڈ پر بھی میزائل داغے گئے، جس کے بعد اماراتی حکام نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے دفاعی نظام کو مکمل فعال کر دیا ہے۔