عید الفطر کے موقع پر سندھ حکومت کی جانب سے قیدیوں کی سزاؤں میں 90 روز کی رعایت کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات نے قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا حکم نامہ جاری کر دیا، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سزا یافتہ رعایت کے مستحق نہیں۔
حکم نامے کے مطابق قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ، جاسوسی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں کو رعایت نہیں ملے گی۔ عمر قید کے قیدیوں کی کم از کم 15 سال کی لازمی سزا کم نہیں کی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد قیدیوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنا اور معمولی جرائم میں ملوث افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ صدرِ مملکت اور صوبائی حکومتوں کی منظوری سے دی جانے والی اس رعایت کا اطلاق درج ذیل کیٹیگریز پر ہوگا۔ وہ قیدی جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں اور جن کا جیل میں رویہ مثالی رہا ہے۔
65 سال سے زائد عمر کے مرد اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدی جو اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ مکمل کر چکے ہیں۔ وہ بچے یا نوجوان جو اصلاحی مراکز میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔
وہ افراد جو کسی دائمی یا سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور جن کی سزا میں کمی طبی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے۔ قانون کے مطابق بعض سنگین جرائم میں ملوث قیدی اس رعایت کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، جن میں شامل ہیں:۔
اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت سزا پانے والے قیدی۔ ملک کی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے افراد۔ قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور زنا بالجبر جیسے جرائم۔ نیب یا وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے تحت سزا یافتہ بڑے مالیاتی سکینڈلز کے مجرم۔
مزید جانیئے: افغان رجیم کی پالیسیوں پر یورپی پارلیمنٹ میں سخت تنقید

