افغانستان میں کارروائیاں عالمی قوانین کے عین مطابق، بھارتی الزامات بے بنیاد، مضحکہ خیز اور منافقت پر مبنی ہے، پاکستان

افغانستان میں کارروائیاں عالمی قوانین کے عین مطابق، بھارتی الزامات بے بنیاد، مضحکہ خیز اور منافقت پر مبنی ہے، پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، بلاجواز اور شدید منافقت پر مبنی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش بھی ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف کیے گئے اقدامات مکمل طور پر قانونی، ہدف شدہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کی گئیں، کیونکہ سرحد پار سے دہشت گرد عناصر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں بھارتی دہشتگردی جاری، ایک اور سینیئر نوجوان سیاسی رہنما پر قاتلانہ حملہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت خود طویل عرصے سے خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دینے میں ملوث رہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بعض دہشت گرد گروہ جیسے ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کو بھارتی سرپرستی حاصل رہی ہے اور انہیں پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں اور ان کی تباہی پر بھارت کی مایوسی قابلِ فہم ہے کیونکہ ماضی میں یہی عناصر پاکستان کے خلاف استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بھارت کا خطے میں کردار تعمیری نہیں بلکہ تخریبی رہا ہے اور وہ مختلف ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بھارت خود انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی جبر، ماورائے عدالت اقدامات اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے فروغ کے بعد اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسلاموفوبیا کو ریاستی سطح پر بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین اور تشدد کے واقعات عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت ماضی میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکا ہے اور علاقائی معاہدوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے، جو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں:ایک اور سکھ رہنما بھارتی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گیا، برطانوی اخبار نے پردہ فاش کردیا

ترجمان نے زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان کے اختتام پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے، اور پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *