بنگلہ دیش کے جنوب مغربی شہر کھلنا میں پیر کو ایک سینئر نوجوان سیاسی رہنما کو سر میں گولی مار دی گئی، جو معروف کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل کے چند دن بعد پیش آیا۔ اس واقعے نے آئندہ انتخابات سے قبل ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد پر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
ڈیلی اسٹار کے مطابق، محمد مطالب سکدر، جنہیں محمد طالب شیخدر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پیر کی صبح تقریباً 11:45 بجے غازی میڈیکل کالج اسپتال کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی اور براہِ راست ان کے سر کو نشانہ بنایا۔
مطالب سکدر کو تشویشناک حالت میں کھلنا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری ہنگامی علاج شروع کیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعد میں ان کی حالت مستحکم ہو گئی اور وہ فوری خطرے سے باہر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گولی کان کے ایک جانب سے داخل ہو کر دوسری جانب سے نکل گئی اور کھوپڑی کو نقصان نہیں پہنچا۔ ابتدائی علاج کے بعد انہیں مزید معائنے کے لیے سٹی امیجنگ سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
42 سالہ سکدر نیشنل سٹیزن پارٹی کے کھلنا ڈویژنل چیف ہیں اور پارٹی کے ورکرز فرنٹ کے مرکزی کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔ یہ جماعت 2024 کی طلبا قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد سامنے آئی تھی، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
کھلنا میں فائرنگ کا یہ واقعہ معروف طلبا رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے چند ہی دن بعد پیش آیا ہے۔ ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بیجوی نگر علاقے میں انتخابی مہم کے دوران نقاب پوش مسلح افراد نے سر میں گولی ماری تھی۔ وہ انقلاب منچا کے ترجمان اور 12 فروری کے عام انتخابات کے امیدوار تھے۔ ہادی 6 دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد سنگاپور میں گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے۔
عثمان ہادی پر حملے کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جن کے دوران کئی عمارتوں کو آگ لگائی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی، جن میں معروف اخبارات پروتھوم آلو اور ڈیلی اسٹار کے دفاتر بھی شامل تھے۔ ان کی شہادت کے بعد محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے ملک گیر یومِ سوگ کا اعلان کیا اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔
کھلنا پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک حملہ آوروں یا ان کے محرکات کے بارے میں کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ سونڈانگا ماڈل پولیس اسٹیشن کے انچارج رفیق الاسلام نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مقامی اسٹیشن چیف انیمیش منڈل نے بتایا کہ پولیس اسپتال حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
یہ حملہ آئندہ اہم انتخابات سے قبل سیاسی تشدد کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ نومبر میں، چٹاگانگ میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ایک جلسے پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس میں ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے، جن میں ایک انتخابی امیدوار بھی شامل تھا۔
کھلنا حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض دعوے گردش کرنے لگے جن میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور بھارتی فوج کے ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔ ان دعوؤں میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھارتی فوجی اہلکاروں سے منسلک اکاؤنٹس کی پوسٹس کا حوالہ دیا گیا۔ تاہم بنگلہ دیشی حکام نے کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی تصدیق نہیں کی اور پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بیرونی کردار سے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
حامیوں اور ساتھی کارکنوں کا کہنا ہے کہ نوجوان سیاسی رہنما، جن میں عثمان ہادی اور سکدر شامل ہیں، مبینہ سیاسی مداخلت کے خلاف کھل کر بولنے کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پارٹی اراکین اور کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مسلسل حملے اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے اور انتخابات سے قبل جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔