ایران نے خطے کے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکا مبینہ طور پر ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی تیاری کر رہا ہے جس کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس ممکنہ کارروائی میں ایران کے معروف ’شاہد ڈرونز‘ کی نقل یا کاپی استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے تاکہ کسی حملے کا الزام ایران پر عائد کیا جا سکے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے علاقائی ممالک اور بعض بین الاقوامی اداروں کو اس حوالے سے آگاہ کیا ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادی مبینہ طور پر ایسے ڈرونز استعمال کر سکتے ہیں جو بظاہر ایرانی ساختہ معلوم ہوں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی حملے کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور ایران کے خلاف مزید فوجی یا سیاسی اقدامات کا جواز پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے کے ممالک کو اس طرح کی کسی بھی مشکوک کارروائی کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی واقعے کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
ادھر یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایک اہم سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوئس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملوں میں ملوث امریکی طیاروں کو سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سوئس حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی طویل عرصے سے قائم غیر جانبدار خارجہ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ بین الاقوامی تنازعات میں غیر جانبداری کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول سمجھتا ہے اور اسی اصول کے تحت فضائی حدود کے استعمال کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب امریکا کے اندر بھی ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے حوالے سے سیاسی اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ امریکی سینیٹر ’برنی سینڈرز‘ نے اسرائیلی وزیراعظم ’بنیامین نیتن یاہو‘ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کو ایک خوفناک اور غیر مقبول جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ٹرمپ انتظامیہ خود بھی واضح نہیں کہ اس تنازع سے کس طرح نکلنا ہے۔
امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ نہ صرف خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا کو کسی بھی نئے فوجی تنازع میں ملوث ہونے سے پہلے اس کے طویل المدتی نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کے الزامات، سوئٹزرلینڈ کے سفارتی فیصلے اور امریکا کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ ایران سے متعلق موجودہ بحران عالمی سطح پر ایک بڑے سفارتی اور سیاسی چیلنج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔